اٹھائے جاؤ گے تو وہ تمہیں تمہارے مشوروں کی جزا دے گا۔( تفسیرکبیر،المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰/۴۹۲، خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۲۴۰، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۲۱۸، ملتقطاً)
آیت’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں
(1)… مسلمان صلاح مشورے مسلمانوں ہی سے کریں ، کفار سے نہ کریں اور انہیں اپنا مشیر وغیرہ نہ بنائیں ۔
(2)… آپس میں مشورے بھی اچھے ہی کریں ،برے نہ کریں ۔
(3)… مسلمانوں کی خَلْوَت بھی جَلْوَت کی طرح پاکیزہ ہونی چاہیے۔
(4)… تنہائی میں بھی حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام ملحوظ رکھے۔ مبارک ہے وہ عالِم جو اپنی تنہائی میں حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فضائل سوچے اور بد نصیب ہے وہ شخص جس کا وقت حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین کے بارے سوچنے میں گزرے۔
اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْــٴًـا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا اور مسلمانوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ پوشیدہ مشورہ تو شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ ایمان والوں کوغمگین کرے اور وہ اللّٰہ کے حکم کے بغیر ایمان والوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور مسلمانوں کو تو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔
{اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ: پوشیدہ مشورہ تو شیطان ہی کی طرف سے ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہ مشورہ تو شیطان ہی