کیا۔ حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ چیزگراں گزری توآپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللّٰہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۲۴۰-۲۴۱)
بزرگانِ دین کی تعظیم کرنا سنت ہے:
اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہواکہ بزرگانِ دین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنت ہے حتّٰی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ مسجد ِنبوی شریف میں ہی ہوا تھا۔یاد رہے کہ حدیث ِپاک میں بزرگانِ دین اور دینی پیشواؤں کی تعظیم و توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو۔( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم۔۔۔ الخ، تواضعہ لہم، ص۲۳۰، الحدیث: ۸۰۲)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بزرگانِ دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی کرنے سے بچے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ادب و تعظیم کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
مسلمانوں کی تعظیم کرنے کی ترغیب:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔حضرت