{وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ: اور زیادہ لینے کی خاطر کسی پر احسان نہ کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنا مال کسی کو اس نیت سے ہدئیے کے طور پر نہ دینا کہ وہ آپ کو اس سے زیادہ دے گا۔
یاد رہے کہ دنیا میں تحفے اور نیوتے دینے کے معاملے میں دستور ہے کہ دینے والا یہ خیال کرتا ہے کہ جس کو میں نے دیا ہے وہ موقع آنے پر مجھے اس سے زیادہ دیدے گا ،اس قسم کے نیوتے اور ہدیئے شرعاً اگرچہ جائز ہیں لیکن نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس سے منع فرمایا گیا کیونکہ شانِ نبوت بہت اَرفع واعلیٰ ہے اور اس مَنصب ِعالی کے لائق یہی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جس کو جو کچھ دیں وہ محض کرم کے طور پرہو اور جسے دیا اس سے لینے یا نفع حاصل کرنے کی نیت نہ ہو۔( خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۳۲۷، خزائن العرفان، المدثر، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۰۶۶، ملتقطاً)
{وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْ: اور اپنے رب کے لیے ہی صبر کرتے رہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے اس کی اطاعت،اس کے احکامات،اس کے ممنوعات اور ان ایذاؤں پر صبر کرتے رہیں جو دین کی خاطر آپ کو ( کُفّار کی طرف سے) برداشت کرنی پڑیں ۔( خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۳۲۷)
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸) فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹) عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب صور پھونکا جائے گا۔تو وہ دن کرّا دن ہے ۔کافروں پر آسان نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب صور میں پھونکا جائے گا۔تو وہ دن بڑا سخت دن ہوگا ۔کافروں پر آسان نہیں ہوگا۔
{فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِ: پھر جب صور میں پھونکا جائے گا۔} سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے چند باتیں ارشاد فرمانے کے بعد یہاں سے اللّٰہ تعالیٰ نے بدبخت کافروں کے لئے وعید بیان فرمائی ہے،چنانچہ اس آیت اور اس