کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب دوسری بار صور میں پھونک ماری جائے گی تو وہ دن عذاب اور برے حساب کے اعتبار سے سخت دن ہوگا اور وہ کافروں پر آسان نہیں ہوگا کیونکہ ان سے سخت حساب لیا جائے گا اور ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے اَعضاء کلام کریں گے اور وہ محشر میں سب لوگوں کے سامنے رُسوا ہوں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ دن اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے مومنین پر آسان ہوگا۔( تفسیر کبیر ، المدثر ، تحت الآیۃ: ۸ ، ۱۰/۷۰۲ ، خازن ، المدثر ، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ۴/۳۲۷، روح البیان، المدثر، تحت الآیۃ: ۸-۱۰، ۱۰/۲۲۷، ملتقطاً)
ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ(۱۱) وَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ(۱۲) وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ(۱۳) وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ(۱۴) ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ(۱۵) كَلَّاؕ-اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ(۱۶) سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ۔اور اسے وسیع مال دیا ۔اور بیٹے دئیے سامنے حاضر رہتے ۔ اور میں نے اس کے لیے طرح طرح کی تیاریاں کیں ۔پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں ۔ہرگز نہیں وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے ۔قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اسے مجھ پر چھوڑ دوجسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔اور اسے وسیع مال دیا۔اور سامنے حاضر رہنے والے بیٹے دئیے ۔اور میں نے اس کے لیے (نعمتوں کو) خوب بچھا دیا۔پھر وہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں ۔ ہرگز نہیں ، یقینا وہ تو ہماری آیتوں سے دشمنی رکھتا ہے ۔جلد ہی میں اسے (آگ کے پہاڑ) صعود پر چڑھاؤں گا۔
{ذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًا: اسے مجھ پر چھوڑ دوجسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔} شانِ نزول: ولید بن مغیرہ مخزومی اپنی قوم میں وحید یعنی یکتاکے لقب سے مشہورتھا ،ا س کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ، چنانچہ اس آیت اور اس کے