اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اَللّٰہُ اَکْبَر فرمایا، حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بھی حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تکبیرسن کر تکبیر کہی اور خوش ہوئیں اور انہیں یقین ہوگیا کہ وحی آئی ہے۔( خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۳۲۶، مدارک، المدثر، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۲۹۶، ملتقطاً)
{وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ: اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے کپڑے ہر طرح کی نجاست سے پاک رکھیں کیونکہ نماز کیلئے طہارت ضروری ہے اور نماز کے علاوہ اور حالتوں میں بھی کپڑے پاک رکھنا بہتر ہے ۔ دوسرا معنٰی یہ ہے کہ آپ کے کپڑے عربوں کی عادت کے مطابق زیادہ لمبے نہ ہوں کیونکہ بہت زیادہ لمبے ہونے کی وجہ سے چلنے پھرنے کے دوران کپڑے نجس ہونے کا اِحتمال رہتا ہے۔( مدارک، المدثر، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۲۹۶)
وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْﭪ(۵) وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُﭪ(۶) وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور بتوں سے دور رہو ۔اور زیادہ لینے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو۔اور اپنے رب کے لیے صبر کئے رہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور گندگی سے دور رہو۔ اور زیادہ لینے کی خاطر کسی پر احسان نہ کرو۔اور اپنے رب کے لیے ہی صبر کرتے رہو۔
{وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ: اور گندگی سے دور رہو۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو (پہلے کی طرح) بتوں کی عبادت سے دور رہنے پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے لہٰذا جس طرح مسلمان کے اس قول ’’اِهْدِنَا ‘‘ کا یہ معنی نہیں کہ اے اللّٰہ ہم ہدایت پر نہیں اس لئے ہمیں ہدایت عطا فرما،بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہمیں اس ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو اسی طرح یہاں ہے (کہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اب انہیں اس سے منع کیا جارہا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ پہلے بتوں کی پوجا کرنے سے دور تھے اسی طرح ہمیشہ اس سے دور ہی رہئے)۔( تفسیرکبیر، المدثر، تحت الآیۃ: ۵، ۱۰/۷۰۰)