یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کروتو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو اور اللّٰہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! جب تم آپس میں مشورہ کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اور اس اللّٰہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اکٹھاکیا جائے گا۔
{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ: اے ایمان والو! جب تم آپس میں مشورہ کرو۔} اس سے پہلی آیت میں گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کے بارے میں مشورے کرنے پر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان کی گئی اور اس آیت میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو ان جیسے طریقے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم جب آپس میں مشورہ کرو تو یہودیوں اور منافقوں کی طرح گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرنا بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرنا اوراس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا جس کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔
بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں منافقوں سے خطاب ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ اے اپنی زبان سے ایمان لانے والو! تم جب آپس میں مشورہ کرو تو گناہ ، حد سے بڑھنے اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اوراس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرو جس کی طرف تم حساب کے لئے