تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کو اور قرآن کو جھٹلانے والے ان مالداروں کو مجھ پر چھوڑ دیں ،میں آپ کی طرف سے انہیں کافی ہوں اور انہیں بدر کے دن تک تھوڑی مہلت دیں ۔چنانچہ کچھ ہی مدت بعد یہ لوگ بدر کی جنگ میں قتل کر دئیے گئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں تھوڑی مہلت دینے سے مراد قیامت کے دن تک مہلت دینا ہے۔( روح البیان،المزمل،تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۰/۲۱۳-۲۱۴، جلالین، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۴۷۸، مدارک، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۲۹۳، ملتقطاً)
اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳) یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِیْبًا مَّهِیْلًا(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ۔اور گلے میں پھنستا کھانا اور دردناک عذاب۔جس دن تھرتھرائیں گے زمین اور پہاڑ اور پہاڑ ہوجائیں گے ریتے کا ٹیلہ بہتا ہوا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے۔اور گلے میں پھنسنے والاکھانا اور دردناک عذاب ہے۔جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرائیں گے اور پہاڑ ریت کا بہتا ہوا ٹیلہ ہوجائیں گے ۔
{اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا: بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں کفار کے عذاب کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جنہوں نے نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلایا ان کے لئے ہمارے پاس آخرت میں لوہے کی بھاری بیڑیاں ہیں جو کہ ذلیل کرنے اور عذاب دینے کے لئے ان کے پاؤں میں ڈالی جائیں گی اور بھڑکتی آگ ہے جس میں انہیں جلایا جائے گا اور گلے میں پھنسنے والاکھانا ہے جو نہ حلق سے نیچے اترے گا اور نہ حلق سے باہر آ سکے گا اور اِن چیزوں کے علاوہ ان کے لئے ایسا دردناک عذاب ہے جس کی حقیقت کوئی نہیں جان سکتا۔( جلالین،المزمل،تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ص۴۷۸، خازن، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۴/۳۲۳، روح البیان، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۱۰/۲۱۴، ملتقطاً)
کفار کے لئے تیار کئے گئے عذابات پڑھ کر مسلمان کو کیا کرنا چاہئے:
قیامت کے دن کفار کے لئے تیار کئے گئے عذاب کے بارے میں پڑھ یا سن کر ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے