دل میں اللّٰہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرے، یہی ہمارے اَسلاف کا طریقہ رہا ہے ۔چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی قاری سے یہ آیت سنی ’’اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًا‘‘ تو (اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر غشی طاری ہو گئی۔( کنز العمال، کتاب الشمائل، قسم الافعال، باب شمائل الاخلاق، ۴/۸۰، الجزء السابع، الحدیث: ۱۸۶۴۰)
مَروی ہے کہ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روزے کی حالت میں تھے،شام کے وقت جب ان کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا تو انہیں یہی آیت یاد آ گئی (اور اللّٰہ کے خوف سے) انہوں نے کہا :کھانا اٹھا لو۔ دوسری رات کھانا پیش کیا گیا تو پھر یہی آیت یاد آ گئی ،آپ نے فرمایا:کھانا اٹھا لو۔ تیسری رات بھی اسی طرح ہوا تو حضرت ثابت بنانی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور چند دیگر بزرگوں کو اس بات کی خبر دی گئی، وہ تشریف لائے اور مسلسل حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کھانے کا کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ستو کا صرف ایک گھونٹ پیا۔( مدارک، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۱۲۹۴)
{یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ: جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن زمین اور پہاڑ اللّٰہ تعالیٰ کی ہَیبت اور جلال سے تَھرتھرائیں گے اور پہاڑ اپنی سختی اور بلندی کے باوجود تھرتھرانے کی شدت کی وجہ سے ریت کا بہتا ہوا ٹیلہ ہوجائیں گے وہ قیامت کا دن ہوگا۔( روح البیان، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۴، ۱۰/۲۱۴-۲۱۵، خازن، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۴، ۴/۳۲۳، ملتقطاً)
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا ﳔ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ(۱۵) فَعَصٰى فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰهُ اَخْذًا وَّبِیْلًا(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناظر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے۔تو فرعون نے اس رسول کا حکم نہ مانا تو ہم نے اسے سخت گرفت سے پکڑا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے جوتم پر گواہ ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول