تعالیٰ نے اپنے ذمہ ٔکرم پر لیا ہو اہے،اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان سب کچھ چھوڑ کر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے روزی ملنے کی امید لگاکر گھر بیٹھ جائے اور رزق حاصل ہونے کے اَسباب اختیار کرنا چھوڑ دے ،اس طرح اگر وہ ساری عمر بھی بیٹھا رہے گا تو اسے ایک لقمہ بھی نہیں ملے گا۔
وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انھیں اچھی طرح چھوڑ دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں کی باتوں پر صبر کرو اور انہیں اچھی طرح چھوڑ دو۔
{وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ: اور کافروں کی باتوں پر صبر کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِ قریش اللّٰہ تعالیٰ کے بارے میں شریک،بیوی اور اولاد بتا کر خُرافات بکتے ہیں اور آپ کو جادوگر، شاعر، کاہِن اور مجنون کہہ کر آپ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور قرآن کو سابقہ لوگوں کی کہانیاں بتا کر اس کے بارے میں نازیْبا کلمات کہتے ہیں ،آپ کافروں کی ان باتوں پر صبر فرمائیں اورانہیں بدنی ،زبانی ، قلبی ہر اعتبار سے چھوڑ دیں اور ان کا معاملہ ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر دیں ۔( روح البیان، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۰، ۱۰/۲۱۳)
وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ وَ مَهِّلْهُمْ قَلِیْلًا(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور مجھ پر چھوڑو ان جھٹلانے والے مال داروں کو اور انھیں تھوڑی مہلت دو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان جھٹلانے والے مالداروں کومجھ پر چھوڑو اور انہیں تھوڑی مہلت دو۔
{وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ: اور ان جھٹلانے والے مالداروں کومجھ پر چھوڑو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ