Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
419 - 881
لہٰذا تم نکاح کرنے سے کنارہ کشی نہ کرو۔( مسند امام احمد، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ۹/۳۹۱، الحدیث: ۲۴۷۱۲)
	اور ایک روایت میں  ہے ،حضرت عائشہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے فرمایا: ’’اے ہشام! نکاح کرنے سے کنارہ کشی نہ کرو کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‘‘(احزاب:۲۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارے لئے اللّٰہ کے رسول میں  بہترین نمونہ موجود ہے۔
	اور بیشک رسولُ   اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نکاح فرمایا اور ان کے ہاں  اولاد بھی ہوئی۔( مسند ابو یعلی، مسند عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ۴/۲۶۱، الحدیث: ۴۸۴۲)
رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(۹)
ترجمۂکنزالایمان: وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں  تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں  تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔
{رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ: وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ مشرق و مغرب اور ان کے درمیان موجود تمام چیزوں  کا رب اور ان کا خالق و مالک ہے،اس کے علاوہ اور کوئی معبود ہی نہیں  لہٰذا تم اپنے دینی اور دُنْیَوی تمام اُمور میں  اسی کو اپنا کارساز بناؤ اوراپنے کام اسی کے سپرد کردو اور اسی پر بھروسہ کرو۔( روح البیان، المزمل، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰/۲۱۲، خازن، المزمل، تحت الآیۃ: ۹، ۴/۳۲۳، ملتقطاً)
حقیقی کارساز صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے :
	 یاد رہے کہ حقیقی کارساز صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے اور سب کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے البتہ اس کا یہ مطلب نہیں  کہ انسان اسباب کو اختیار کرنا چھوڑ دے اور صرف اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائے بلکہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اسباب ضرور اختیار کرے لیکن ان اسباب پر بھروسہ نہ کرے بلکہ صرف اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے جیسے ہر ایک کو روزی دینا اللّٰہ