Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
41 - 881
(3)… حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :ایک یہودی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی مجلس میں  آیا اور ا س نے کہا’’اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اسے جواب دیا تو آپ نے ارشاد فرمایا’’تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی:اللّٰہ تعالیٰ اوراس کارسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ زیادہ جانتے ہیں  ، یا رسول  اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہمارے خیال میں  اس نے سلام کیا تھا۔ارشادفرمایا’’نہیں ، بلکہ ا س نے یوں  کہا’’اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ یعنی تم پر موت ہو۔(وہ چلا گیا ہے )تم اسے واپس لے کر آؤ۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اسے واپس لے کر آئے تو آپ نے ارشاد فرمایا’’ تم نے ’’اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ کہا تھا؟اس نے جواب دیا:جی ہاں ۔اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا’’ جب اہل ِکتاب میں  سے کوئی شخص تمہیں سلام کرے توتم کہو ’’عَلَیْکَ مَا قُلْتَ‘‘ یعنی تم پروہی نازل ہوجوتم نے کہاہے ۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
’’وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُۙ      ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں  تو اُن الفاظ سے تمہیں  سلام کرتے ہیں  جن سے اللّٰہ نے تمہیں  سلام نہیں  فرمایا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المجادلۃ، ۵/۱۹۷، الحدیث: ۳۳۱۲)
{وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ: اور وہ اپنے دلوں  میں  کہتے ہیں  ۔} آیت کے اس حصے میں  یہودیوں  کے بارے میں  ایک اور بات بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنے دلوں  میں  کہتے ہیں :ہماری باتوں  کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  کیوں  عذاب نہیں  دیتا ؟ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نبی ہوتے تو ہماری اس گستاخی پر اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  عذاب دیتا۔اس کے جواب میں  اللّٰہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:انہیں  عذاب کے طور پر جہنم کافی ہے جس میں  یہ داخل ہوں  گے تو یہ ان کاکیا ہی برا انجام ہے۔مراد یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، اگر کسی جرم پر فوراً عذاب نہ آئے تو یہ معنی نہیں  کہ وہ جرم جرم نہیں ،بلکہ اس کا جرم ہونا اپنی جگہ برقرار ہے اورعذاب اس لئے نازل نہیں  ہوا کہ ابھی اس کا وقت نہیں  آیا اور جب وقت آ جائے گا تو عذاب میں  تاخیر نہ کی جائے گی، لہٰذافوری عذاب نازل نہ ہونے کی وجہ سے کوئی دھوکہ نہ کھائے۔