قرآنِ پاک کی قراء ت سے متعلق چند اَحکام:
یہاں آیت کی مناسبت سے قرآنِ مجید کی قراء ت سے متعلق 4ضروری اَحکام ملاحظہ ہوں ،
(1)…تجوید قرآنِ پاک کی آیت،مُتَواتِر اَحادیث،صحابہ ٔکرام، تابعین اور تمام ائمہ ٔکرام کے مکمل اِجماع کی وجہ سے حق اور واجب اور اللّٰہ تعالیٰ کے دین اور شریعت کا علم ہے، اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا ‘‘ اسے مُطْلَقاً ناحق بتانا کلمہ ٔکفر ہے۔(فتاوی رضویہ، ۶/۳۲۲-۳۲۳، ملخصاً)
(2)… قرآنِ پاک کو اتنی تجوید سے پڑھنا فرضِ عین ہے جس سے حروف صحیح ادا ہوں اور غلط پڑھنے سے بچے۔( فتاوی رضویہ، ۶/۳۴۳، ملخصاً)
(3)…جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے اس پر واجب ہے کہ حروف صحیح ادا کرنے کی رات دن پوری کوشش کرے اور اگر نماز میں صحیح پڑھنے والے کی اِقتدا کر سکتا ہو تو جہاں تک مُمکن ہو اس کی اقتدا کرے یا وہ آیتیں پڑھے جن کے حروف صحیح ادا کر سکتا ہو اور یہ دونوں صورتیں نا ممکن ہوں تو کوشش کے زمانے میں اس کی اپنی نماز ہو جائے گی اور اگر کوشش بھی نہیں کرتا تو اس کی خود بھی نماز نہیں ہوگی دوسرے کی اس کے پیچھے کیا ہوگی۔ آج کل عام لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ غلط پڑھتے ہیں اور صحیح پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ان کی اپنی نمازیں باطل ہیں ۔( بہار شریعت، حصہ سوم، امامت کا بیان، امامت کا زیادہ حقدار کون ہے،۱/۵۷۰-۵۷۱، ملخصاً)
(4)…فرضوں میں ٹھہر ٹھہر کر قراء ت کی جائے ، تراویح میں مُتَوَسِّط انداز پر اور رات کے نوافل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، لیکن ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے، ورنہ حرام ہے، اس لیے کہ ترتیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے۔ آج کل کے اکثر حُفّاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا ہے نہ حروف کی تصحیح ہوتی ہے، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پرایک دوسرے سے فخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآن مجید پڑھنا حرام اور سخت حرام ہے۔( بہار شریعت، حصہ سوم، قرآن مجید پڑھنے کا بیان، ۱/۵۴۷، ملخصاً)
ایک اور مقام پر صدرُ الشَّریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے زمانے کے حفاظ کی حالت بیان کرتے