Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
415 - 881
ہوئے فرماتے ہیں  ’’ افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حُفّاظ کی حالت نہایت ناگُفتہ بہ ہے، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں  کہ یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کچھ پتہ نہیں  چلتا ،الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں  ،جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں  اُنھیں  دیکھیے تو حروف صحیح نہیں  ادا کرتے ،ہمزہ، الف، عین اور ذ، ز، ظ اور ث، س، ص، ت، ط وغیرہا حروف میں  فرق نہیں  کرتے جس سے قطعاً نماز ہی نہیں  ہوتی فقیر کو انھیں  مصیبتوں  کی وجہ سے تین سال ختمِ قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولا عَزَّوَجَلَّ مسلمان بھائیوں  کو توفیق دے کہ مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ  (یعنی جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک نازل فرمایا اسی طرح) پڑھنے کی کوشش کریں ۔ (بہار شریعت، حصہ چہارم، تراویح کا بیان، ۱/۶۹۱-۶۹۲)
	اور فی زمانہ حُفّاظ کا تو جو حال ہو چکا ہے وہ تو ایک طرف عوام اور مَساجد کی انتظامیہ کا حال یہ ہو چکا ہے کہ تراویح کے لئے اس حافظ کو منتخب کرتے ہیں  جو قرآنِ پاک تیزی سے پڑھے اور جتنا جلدی ہو سکے تراویح ختم ہو جائے اور اس امام کے پیچھے تراویح پڑھنے سے جو تجوید کے مطابق قرآن پڑھتا ہے ا س لئے دور بھاگتے ہیں  کہ یہ دیر میں  تراویح ختم کرے گا اور بعض جگہ تو یوں  ہوتا ہے کہ تراویح پڑھانے والے کو مسجد انتظامیہ کی طرف سے ٹائم بتا دیا جاتا ہے کہ اتنے منٹ میں  آپ کو تراویح ختم کرنی ہے اور اگراس وقت سے 5منٹ بھی لیٹ ہو جائے تو حافظ صاحب کوسنا دیا جاتا ہے کہ حضرت آج آپ نے اتنے منٹ لیٹ کر دی آئندہ خیال رکھئے گا۔اے کاش کہ مسلمان اپنے وقت کا خیال کرنے کی بجائے اپنی نماز کی حفاظت کی فکر کریں ۔اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے۔آمین۔
	نوٹ: ترتیل کی حدود،ان کی تفصیلات اور اَحکام جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد نمبر6صفحہ 275 تا 282 کا مطالعہ کیجئے۔
اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں  گے۔