سوئے اور درمیان کے تہائی حصے میں عبادت کرے اور اگر آدھی رات میں سونا چاہتا ہے اور آدھی رات میں جاگنا تو بعد والی آدھی رات میں عبادت کرنا افضل ہے کہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ رب عَزَّوَجَلَّ ہر رات میں جب پچھلی تہائی باقی رہتی ہے آسمانِ دنیا پرخاص تجلّی فرماتا ہے اور فرماتا ہے ’’ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں ، ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے دوں ، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ اس کی بخشش کر دوں ۔( مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا،باب الترغیب فی الدعاء والذکر فی آخر اللیل والاجابۃ فیہ،ص۳۸۱،الحدیث: ۱۶۸(۷۵۸))
اور سب سے بڑھ کر تو حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے طریقے کے مطابق نماز ادا کرنا ہے،جیسا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: سب نمازوں میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو زیادہ محبوب نمازِ داؤد ہے کہ وہ آدھی رات سوتے اور تہائی رات عبادت کرتے پھر چھٹے حصے میں سوتے تھے(بخاری، کتاب احادیث الانبیائ، باب احبّ الصلاۃ الی اللّٰہ صلاۃ داود۔۔۔ الخ، ۲/۴۴۸، الحدیث: ۳۴۲۰)۔( بہار شریعت، حصہ چہارم، سنن ونوافل کا بیان، نماز تہجد،۱/۶۷۸، ملخصاً)
{وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا: اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔} اس کا معنی یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ اس طرح قرآن پڑھو کہ حروف جُدا جُدا رہیں ،جن مقامات پر وقف کرنا ہے ان کا اور تمام حرکات (اور مَدّات) کی ادائیگی کا خاص خیال رہے۔آیت کے آخر میں ’’ تَرْتِیْلًا ‘‘ فرما کر اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والے کے لئے ترتیل کے ساتھ تلاوت کرنا انتہائی ضروری ہے۔( مدارک، المزمل، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۲۹۲)
حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’(قیامت کے دن) قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا:پڑھتا جا اور ترقی کی منازل طے کرتا جا اور اس طرح ٹھہر کر پڑھ جس طرح دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا،جہاں تو آخری آیت پڑھے گا اسی کے پاس تیری منزل ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، ۱۸-باب، ۴/۴۱۹، الحدیث: ۲۹۲۳)