کے حق میں (تہجد کی) فرضِیَّت (کا) ہے۔ اسی پرظاہر ِقرآنِ عظیم شاہد اور اسی طرف حدیث ِمرفوع وارِد۔
قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی : ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کافرمان ہے: ’’اے چادر اوڑھنے والے! رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔(ت)
وَقَالَ تَعَالٰی : ’’وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ‘‘ اور ارشاد فرمایا: ’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو۔( بنی اسرائیل۷۹)
ان آیتوں میں خاص حضورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو امر ِالٰہی ہے، اور امرا ِلٰہی مفید ِوجوب، اور اللّٰہ تعالیٰ کا ’’نَافِلَةً‘‘ فرمانا اس وجوب کے مُنافی نہیں کیونکہ ’’نَافِلَةً‘‘ کا معنی ہے زائدہ، اب اس آیت کامعنی یہ ہوگا کہ آپ کے فرائض یادرجات میں یہ اضافہ ہے کہ آپ پر یہ لازم واجب ہے کیونکہ فرائض سب سے بڑے درجے اور فضیلت پر فائز کرنے کاسبب بنتے ہیں ، بلکہ اس کی تائید اللّٰہ تعالیٰ کے اس ارشاد ’’ لَکَ ‘‘ سے ہورہی ہے۔ امام ابنِ ہمام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات مجرور (یعنی حرف ’’ک‘‘) کے ساتھ مُقَیَّدکرنا اسی بات کافائدہ دیتاہے (یعنی یہ فرائض میں آپ کے لئے اضافہ ہے) کیونکہ مُتَعارَف نوافل صرف آپ ہی کے لئے نہیں بلکہ اس میں آپ اور دیگر لوگ مُشْتَرَک ہیں ۔(ت)( فتاوی رضویہ، باب الوتر والنوافل، ۷/۴۰۲-۴۰۳)
اور مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس مسئلے کی تحقیق کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’صحیح یہ ہے نمازِ تہجد حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر نمازِ پنجگانہ کی فرضیت کے بعد بھی فرض رہی۔( نزہۃ القاری، کتاب التہجد، ۲/۶۸۳)
اور مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’نمازِ تہجد سَیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر فرض تھی،جمہور کا یہی قول ہے حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی امت کے لئے یہ نماز سنت ہے۔( خزائن العرفان، بنی اسرا ئیل، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۵۴۱)
جبکہ بعض مفسرین کے نزدیک امت کی طرح نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بھی تہجد کی فرضیت منسوخ ہو گئی تھی۔
{اَوْ زِدْ عَلَیْهِ: یا اس پر کچھ اضافہ کرلو۔} صدرُ الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’جو شخص دو تہائی رات سونا چاہے اور ایک تہائی عبادت کرنا چاہے تو اسے افضل یہ ہے کہ وہ رات کے پہلے اورآخری تہائی حصے میں