قیام فرماتے اور ان میں سے جوحضرات یہ بات نہیں جانتے تھے کہ تہائی رات ،یا آدھی رات، یا دو تہائی رات کب ہوتی ہے تووہ ساری رات قیام میں رہتے اور اس اندیشے سے صبح تک نمازیں پڑھتے رہتے کہ کہیں قیام واجب مقدارسے کم نہ ہوجائے یہاں تک کہ ان حضرات کے پاؤں سوج جاتے تھے۔ پھر تخفیف ہوئی اور بعض مفسرین کے نزدیک ایک سال کے بعد اسی سورت کی آخری آیت کے اس حصے ’’فَاقْرَءُوْا مَا تَیَسَّرَ مِنْهُ‘‘ سے یہ حکم منسوخ ہوگیا اور بعض مفسرین کے نزدیک پانچ نمازوں کی فرضِیّت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا۔یاد رہے کہ اس آیت میں قیام سے مراد تہجد کی نماز ہے۔( خازن،المزمل،تحت الآیۃ:۲-۴، ۴/۳۲۰-۳۲۱، مدارک، المزمل، تحت الآیۃ: ۲-۳، ص۱۲۹۲، تفسیر کبیر، المزمل، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۱۰/۶۸۱-۶۸۲، ملتقطاً)
اُمّت کے حق میں تَہَجُّد کی فرضِیَّت منسوخ ہو چکی ہے:
اب رہی یہ بات کہ تَہَجُّد کی فرضِیَّت کس کے لئے منسوخ ہوئی اس کے بارے میں علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرما تے ہیں : ا سلام کے ابتدائی دور میں سورۂ مُزَّمِّل کی ان آیات کی وجہ سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اور آپ کی اُمّت پر تہجد کی نماز فرض تھی،پھر تخفیف کی گئی اور پانچ نمازوں کی فرضِیَّت سے امت کے حق میں تہجد کا وجوب منسوخ ہو گیا اور ان کے لئے تہجد کی نماز ادا کرنا مُستحب ہو گیا جبکہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے اس کا وجوب باقی رہا،اس کی دلیل یہ آیتِ مبارکہ ہے:
’’وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ‘‘(بنی اسرائیل:۷۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھویہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے۔
یعنی آپ پر اللّٰہ تعالیٰ نے جو اور عبادات فرض کی ہیں ان کے ساتھ ساتھ مزید تہجد کی نماز پڑھنا بھی خاص آپ کے لئے فرض ہے۔ (خازن، المزمل، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۳۲۱)
جمہور مفسرین اور فقہاء کے نزدیک سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرض نمازوں کے علاوہ نمازِ تہجد کی فرضِیَّت بھی باقی رہی جبکہ امت کے حق میں منسوخ ہوئی اور دلائل کی رُو سے بھی یہی صحیح ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ قولِ جمہور ،مذہب ِمختار ومنصور ،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ