کچھ کم کرو۔یا اس پر کچھ بڑھاؤ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے چادر اوڑھنے والے۔ رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔آدھی رات (قیام کرو) یا اس سے کچھ کم کرلو۔ یا اس پر کچھ اضافہ کرلو اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
{یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ: اے چادر اوڑھنے والے۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ وحی نازل ہونے کے ابتدائی زمانے میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے ،ایسی حالت میں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ کہہ کر ندا کی ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایک مرتبہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چادر شریف میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے، اس حالت میں آپ کو ندا کی گئی ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ ۔( خازن، المزمل، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۲۰، ابو سعود، المزمل، تحت الآیۃ: ۱، ۵/۷۸۲-۷۸۳)
آیت ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)…قرآنِ پاک میں دیگر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے نام شریف سے پکارا گیا جبکہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کی صفات شریف سے ندا کی گئی ہے۔
(2)…ندا کے ا س انداز سے معلوم ہو اکہ اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہر ادا پیاری ہے ۔
{قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا: رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے چادر اوڑھنے والے میرے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، رات کے تھوڑے حصے میں آرام فرمائیے اور باقی رات نماز اور عبادت کے ساتھ قیام میں گزارئیے اور وہ باقی آدھی رات ہو یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس پر کچھ اضافہ کرلو۔ یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اختیار دیا گیا ہے کہ عبادت خواہ آدھی رات تک کریں یا اس سے کم یعنی تہائی رات تک کریں یا اس سے زیادہ یعنی دو تہائی رات تک کرتے رہیں ۔
نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اسی مقدار کے مطابق رات کو