گیا کہ جو لوگ آپ کواور قرآنِ مجید کو جھٹلا رہے ہیں آپ کی طرف سے انہیں اللّٰہ تعالیٰ کافی ہے۔
(3)…قیامت کے دن کفار کے عذاب کی کَیفِیّت بیان کی گئی اور کفارِ مکہ کو بتایاگیا کہ جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف رسول بھیجے اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیجے جوتم پر گواہ ہیں اور اگر تم بھی ان کی نافرمانی کرتے رہے تو تمہیں فرعون سے زیادہ سخت عذاب میں مبتلا کیاجا سکتا ہے ۔
(4)…یہ بتایا گیا کہ دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والی آیات مخلوق کے لئے نصیحت ہیں اور جو چاہے ان سے نصیحت حاصل کرے۔
(5)…اس سورت کے آخر میں امت سے تہجد کی فرضِیّت منسوخ کر دی گئی اور عبادت کے معاملے میں آسانی فرما دی گئی۔
سورۂ جن کے ساتھ مناسبت:
سورۂ مزمل کی اپنے سے ما قبل سورت ’’جن‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جن کے آخر میں وحی کی عظمت بیان ہوئی اور سورۂ مزمل میں بھی وحی کی عظمت بیان کی گئی ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲) نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳) اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اے جھرمٹ مارنے والے۔ رات میں قیام فرما سوا کچھ رات کے۔ آدھی رات یا اس سے