عادت کے بارے میں بیان کیاجارہاہے کہ یہ لوگ جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں توکسی اچھے الفاظ سے سلام نہیں کرتے اور ان کے سلام کے الفاظ وہ نہیں ہوتے جن سے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو سلام فرمایا ہے ۔
بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں یہودیوں کی ایک ذلیل حرکت:
یہودی جب نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو یوں کہتے تھے ’’اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ‘‘ یعنی تم پرموت آئے۔نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی اس کے جواب میں ’’ عَلَیْکُمْ‘‘یعنی تم پربھی موت آئے، فرمادیتے تھے ،یہاں اسی سے متعلق3اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو انہوں نے کہا: ’’اَلسَّامُ عَلَیْکُم‘‘ یعنی تم پر موت ہو۔میں ان کی گفتگو سمجھ گئی اور کہا: تم پر موت اور لعنت ہو۔پھر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! جانے دو، اللّٰہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی پسند فرماتا ہے ۔میں نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ نے سنا نہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا۔حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے کہہ دیا تھا ’’وَعَلَیْکُمْ‘‘ یعنی تم پر ہو۔( بخاری، کتاب الادب، باب الرفق فی الامر کلّہ، ۴/۱۰۶، الحدیث: ۶۰۲۴)
(2)… حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ کچھ یہودی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں آئے اور انہوں نے کہا:’’اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ‘‘ یعنی تم پر موت ہو۔حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا:تمہارے اوپر موت ہو، اللّٰہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اور تم پر اللّٰہ تعالیٰ غضب فرمائے۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اے عائشہ!جانے دو اور نرمی اختیار کرو،کَج خُلقی اور بد گوئی سے بچو۔ حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی:جو انہوں نے کہا وہ آپ نے سنا نہیں ؟ارشاد فرمایا’’کیا تم نے وہ نہیں سنا جو میں نے کہا ۔میں نے وہی بات ان پر لوٹا دی تھی پس ان کے بارے میں میرے الفاظ شرفِ قبولیّت حاصل کر گئے اور میرے بارے میں ان کے الفاظ قبول نہیں ہوئے ۔( بخاری، کتاب الادب، باب لم یکن النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاحشاً ولا متفحّشاً، ۴/۱۰۸، الحدیث: ۶۰۳۰)