Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
406 - 881
ذریعے غیب جانتے ہیں  اوروہ ہر نقص سے معصوم ہے جبکہ اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کی اطلاع کا یہ مقام نہیں ، اسی لئے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عصمت واجب ہے اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کی عصمت جائز ہے۔( صاوی، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶، ۶/۲۲۵۶)
	علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : ’’ اولیاء کو بھی اگرچہ غیوب پر اطلاع دی جاتی ہے مگر انبیاء کا علم باعتبارِ کشف و اِنجلاء (یعنی غیب کی باتوں  کو ظاہر کرنے کے اعتبار سے) اولیاء کے علم سے بہت بلند وبالا واَرفع و اعلیٰ ہے اور اولیاء کے علوم انبیاء ہی کے وَساطت اور انہی کے فیض سے ہوتے ہیں ، معتزلہ ایک گمراہ فرقہ ہے وہ اولیاء کیلئے علمِ غیب کا قائل نہیں  ،اس کا خیال باطل اور احادیثِ کثیرہ کے خلاف ہے اور اس آیت سے ان کا تَمَسّک (یعنی دلیل پکڑنا) صحیح نہیں  ،بیانِ مذکورہ بالا میں  اس کا اشارہ کردیا گیا ہے، سیّدُ الرُّسُل خاتَم الانبیاء محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ مُرتضیٰ رسولوں  میں  سب سے اعلیٰ ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو تمام اَشیاء کے علوم عطا فرمائے جیسا کہ صحاح کی معتبر اَحادیث سے ثابت ہے اور یہ آیت حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے اور تمام مرتضیٰ رسولوں  کیلئے غیب کا علم ثابت کرتی ہے۔(خزائن العرفان، الجن، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۱۰۶۲)
لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: تا کہ دیکھ لے کہ انھوں  نے اپنے رب کے پیام پہنچا دئیے اور جو کچھ ان کے پاس سب اس کے علم میں  ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تا کہ اللّٰہ دیکھ لے کہ بیشک انہوں  نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے ہیں  اور اللّٰہ نے وہ سب کچھ گھیر رکھا ہے جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے۔