اولیاء کے لئے غیب کا علم نہ ماننے والوں کا رد:ـ
معتزلہ فرقے کے لوگوں نے اس آیت سے اولیاء کے لئے علم ِغیب ماننے سے انکار کیا ہے ۔علامہ سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنی کتاب’’ شرح مقاصد‘‘ میں باطل فرقے’’معتزلہ‘‘ کی جانب سے اولیاء کی کرامات سے انکار اور ان کے فاسد شُبہات کا ذکر کر کے ان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ معتزلہ کی پانچویں دلیل خاص علمِ غیب کے بارے میں ہے، وہ گمراہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو غیب کا علم نہیں ہوسکتا کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر مسلط نہیں کرتا۔ مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔
جب غیب پر اطلاع رسولوں کے ساتھ خاص ہے تو اولیاء کیونکر غیب جان سکتے ہیں ۔ائمہ اہلسنّت نے جواب دیا کہ یہاں غیب عام نہیں جس کے یہ معنی ہوں کہ کوئی غیب رسولوں کے سوا کسی کو نہیں بتاتا جس سے مُطْلَقاً اولیاء کے علومِ غیب کی نفی ہوسکے، بلکہ یہ تو مُطْلَق ہے (یعنی کچھ غیب ایسے ہیں کہ غیرِ رسول کو نہیں معلوم ہوتے) یا اس سے خاص وقوعِ قیامت کا وقت مراد ہے (کہ خاص اس غیب کی اطلاع رسولوں کے سوا اوروں کو نہیں دیتے) اوراس پر قرینہ یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں غیب ِقیامت ہی کا ذکر ہے۔ (تو آیت سے صرف اتنا مطلب نکلا کہ بعض غیبوں یا خاص قیامت کے وقت کی تعیِین پر اولیاء کو اطلاع نہیں ہوتی نہ یہ کہ اولیاء کوئی غیب نہیں جانتے، اس پر اگر یہ شُبہ قائم ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ تو رسولوں کا اِستثناء فرمارہا ہے کہ وہ ان غیبوں پر مُطّلع ہوتے ہیں جن کو اور لوگ نہیں جانتے اب اگر اس سے قیامت کے وقت کی تعیین مراد لیں تو رسولوں کا بھی اِستثناء نہ رہے گا کہ یہ تو اُن کو بھی نہیں بتایا جاتا۔ اس کا جواب یہ فرمایا کہ) فرشتوں یا انسانوں میں سے بعض رسولوں کو قیامت کے وقت کی تعیین کا علم ملنا کچھ بعید نہیں تو یہاں اللّٰہ تعالیٰ کا اِستثناء فرمانا ضرور صحیح ہے۔( شرح مقاصد،المقصد السادس،الفصل الاول،المبحث الثامن: الولی، ۳/۳۲۹،۳۳۰، فتاوی رضویہ، رسالہ: خالص الاعتقاد، ۲۹/۴۷۵-۴۷۶)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کی جن کرامات کا تعلق کشف کے ساتھ ہے ان کی نفی پر اس آیت میں کوئی دلیل نہیں البتہ یہ (ضرورثابت ہوتا) ہے کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی غیب پر اطلاع اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کی غیب پر اطلاع سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وحی کے