Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
404 - 881
ایک وقفہ کرے گا۔( تفسیرکبیر، الجن، تحت الآیۃ: ۲۵، ۱۰/۶۷۸)
	 یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قیامت واقع ہونے کے وقت کا علم ہے اور ا س کی دلیل وہ تمام اَحادیث ہیں  جن میں  رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قیامت کی علامت اور نشانیاں  بیان فرمائیں  حتّٰی کہ مہینہ ،دن اور وہ وقت بھی بتا دیا جس میں  قیامت قائم ہو گی۔
عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں  کرتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں  کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کر دیتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: غیب کا جاننے والا اپنے غیب پر کسی کو اطلاع نہیں  دیتا۔ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں  کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے۔
{عٰلِمُ الْغَیْبِ: غیب کا جاننے والا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ’’اللّٰہ تعالیٰ غیب کا جاننے والا ہے تو وہ اپنے اُس غیب پر جس کا علم اس کے ساتھ خاص ہے ،اپنے پسندیدہ رسولوں  کے علاوہ کسی کو کامل اطلاع نہیں  دیتا جس سے حقیقتِ حال مکمل طور پر مُنکشف ہو جائے اور ا س کے ساتھ یقین کا اعلیٰ درجہ حاصل ہو (اور رسولوں  کو) ان میں  سے بعض غیوب کا علم، کامل اطلاع اور کشفِ تام کے ساتھ اس لئے دیتا ہے کہ وہ علمِ غیب ان کے لئے معجزہ ہو اور اللّٰہ تعالیٰ ان رسولوں  کے آگے پیچھے پہرے دار فرشتے مقرر کر دیتا ہے جو شیطان کے اِختلاط سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔( بیضاوی، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۵/۴۰۲، جمل، الجن، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۸/۱۴۰، ملتقطاً)