کہ شاید ان لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کے شہید ہونے یا شکست کھانے کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہوئے ہیں اور یہ اسی کے بارے باتیں بنارہے اور اشارے کررہے ہیں ۔ جب منافقوں کی یہ حرکات بہت زیادہ ہوگئیں اور مسلمانوں نے سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اس کی شکایتیں کیں توتاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سرگوشی کرنے والوں کو منع فرمادیا، لیکن وہ باز نہ آئے اور یہ حرکت کرتے ہی رہے، اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا:کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں پوشیدہ مشوروں سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہ اسی منع کئے ہوئے کام کی طرف لوٹتے ہیں اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں ۔
ان کاگناہ اور حد سے بڑھنا یہ ہے کہ مکاری کے ساتھ سرگوشیاں کرکے مسلمانوں کو رنج و غم میں ڈالتے ہیں اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی یہ ہے کہ ممانعت کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرنے کی رائے دیتے تھے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۲۳۹)
کسی کے سامنے سرگوشی سے بات نہ کی جائے:
اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے سامنے سرگوشی سے بات کرنا اسے تشویش میں ڈال دیتا اور رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے ، لہٰذا اس سے بچنا چاہئے، اَحادیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے ، چنانچہ حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں ۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب لا یتناجی اثنان دون الثالث، ۴/۱۸۵، الحدیث: ۶۲۸۸)
اور حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’جب تم تین افرادہوتو تیسرے کوچھوڑکردوآدمی باہم سرگوشی نہ کریں جب تک کہ بہت سے آدمیوں سے نہ مل جاؤ (یعنی تمہاری تعداد کثیر ہو جائے)ورنہ یہ بات اسے رنج پہنچائے گی۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا کانوا اکثر من ثلاثۃ۔۔۔ الخ، ۴/۱۸۵، الحدیث: ۶۲۹۰)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ اِذَا جَآءُوْكَ: اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں ۔} آیت کے اس حصے میں یہودیوں کی ایک اور بری