Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
398 - 881
حرام قرار دیتے ہیں  حالانکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تو مسجد میں  عین حالت ِ نماز میں  پکارا جاتا ہے جب اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کہا جاتا ہے۔آیت میں  پکارنے سے مراد معبود بنا کر پکارنا ہے، نہ کہ کسی بھی طرح کسی کو بھی پکارنا منع ہوجائے۔ 
آیت ’’وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	 اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں ،
(1)…وقف اور احترام کے احکام میں  تمام مسجدیں  برابر ہیں  اگرچہ بعض مَساجد میں  نماز ادا کرنے پر ملنے والے اجرو ثواب میں  فرق ہے۔ 
(2)…مسجد خاص اللّٰہ تعالیٰ کی ہے اور ا س کے علاوہ کسی کی مِلک ہے نہ ہو سکتی ہے ۔
(3)… شرک و بت پرستی ہر جگہ جرم ہے لیکن مسجدمیں  زیادہ جرم ہے کہ اس میں  مسجد کی بے ادبی ہے ۔
وَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا(۱۹)ﮒترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ جب اللّٰہ کا بندہ اس کی بندگی کرنے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ جنّ اس پر ٹھٹھ کے ٹھٹھ ہوجائیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ جب اللّٰہ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ وہ جن اس پر ہجوم کر دیتے۔
{وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ: اور یہ کہ جب اللّٰہ کا بندہ اس کی عبادت کرنے کھڑا ہوا۔} یعنی میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کے بندے محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نخلہ کے مقام پر فجر کے وقت میں  نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو قریب تھا کہ وہ جن قرآن سننے کیلئے رش کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے کے اوپر چڑھ جائیں  کیونکہ انہیں  نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادت، تلاوت اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے قیام،رکوع اور سجود میں  آپ کی اقتداء انتہائی عجیب اورپسندیدہ معلو م ہوئی،اس سے پہلے انہوں نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا اور نہ ہی ایسا بے مثل کلام سنا تھا۔( مدارک، الجن، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۲۹۰، جلالین، الجن، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۴۷۷، ملتقطاً)