اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ ٘-وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُۙ-وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُؕ-حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُۚ-یَصْلَوْنَهَاۚ-فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے اُنھیں نہ دیکھا جنہیں بُری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللّٰہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللّٰہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر انھیں جہنم بس ہے اس میں دھنسیں گے تو کیا ہی بُرا انجام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں پوشیدہ مشوروں سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہ اسی کام کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو اُن الفاظ سے تمہیں سلام کرتے ہیں جن سے اللّٰہ نے تمہیں سلام نہیں فرمایااور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری باتوں کی وجہ سے اللّٰہ ہمیں کیوں عذاب نہیں دیتا ؟انہیں جہنم کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے تو وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
{اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں پوشیدہ مشوروں سے منع فرمایا گیا تھا۔} شانِ نزول : یہ آیت ان یہودیوں اور منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جوآپس میں سرگوشیاں کرتے اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے اُن کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان یہ سمجھیں کہ اُن کے خلاف کوئی پوشیدہ بات کی جا رہی ہے اور اس سے انہیں رنج ہو۔ اُن کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے