کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آنے کے بعد اور کئی صدیوں تک تبلیغ کرنے کے باوجود قوم کے کفر پر ہی قائم رہنے کی وجہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ ہدایت پر آنے والے نہیں تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی ’’اے میرے پروردگار! عَزَّوَجَلَّ، زمین پر ان لوگوں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ جنہوں نے تیرے ساتھ کفر کیا اور تیری طرف سے آنے والے احکامات کا انکار کیا۔بیشک اگر تو ان سب کو یا ان میں سے بعض کو زمین پر چھوڑدے گا اور ہلاک نہ فرمائے گا تویہ تیرے بندوں کو راہِ حق سے گمراہ کردیں گے اوریہ اولاد بھی ایسی ہی جنیں گے جو بدکار اوربڑی ناشکری ہوگی۔( روح البیان، نوح، تحت الآیۃ: ۲۶-۲۷، ۱۰/۱۸۴)
رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے رب !مجھے اور میرے ماں باپ کو اور میرے گھر میں حالتِ ایمان میں داخل ہونے والے کو اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کوبخش دے اور کافروں کی تباہی میں اضافہ فرمادے۔
{ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ: اے میرے رب! مجھے بخش دے۔} کفار کے خلاف دعا کرنے کے بعد حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے لئے، اپنے والدین اور مومن مَردوں اور عورتوں کے لئے دعا کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اور میرے ماں باپ کو اور میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہونے والے کو اور قیامت تک آنے والے سب مسلمان مَردوں اور سب مسلمان عورتوں کوبخش دے اور کافروں کی تباہی میں اضافہ فرما دے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرمائی اوران کی قوم کے تمام کفار کو عذاب سے