Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
377 - 881
’’وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةًؕ-وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا‘‘ ( فرقان:۳۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نوح کی قوم کو جب انہوں  نے رسولوں  کو جھٹلایاتو ہم نے انہیں  غرق کردیا اور انہیں  لوگوں  کے لیے نشانی بنادیا اور ہم نے ظالموں  کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
	 اور ارشاد فرمایا: ’’بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓــٴَـتُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(بقرہ:۸۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیوں  نہیں ، جس نے گناہ کمایا اور اس کی خطا نے اس کا گھیراؤ کرلیا تو وہی لوگ جہنمی ہیں ، وہ ہمیشہ اس میں  رہیں  گے۔
 اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  اپنے اعمال کی اصلاح کرنے ،گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔ 
وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا(۲۶)اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور نوح نے عرض کی اے میرے رب زمین پر کافروں  میں  سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بے شک اگر تو انہیں  رہنے دے گا تو تیرے بندوں  کو گمراہ کردیں  گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب!زمین پر کافروں  میں  سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔بیشک اگر تو انہیں  چھوڑدے گا تویہ تیرے بندوں  کو گمراہ کردیں  گے اور یہ اولاد بھی ایسی ہی جنیں  گے جو بدکار ،بڑی ناشکری ہوگی۔
{ وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ: اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب!} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے