Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
373 - 881
لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ‘‘(منافقون:۹)
تمہاری اولاد تمہیں  اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں  اور جو ایسا کرے گاتو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
	لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ کافروں  کے مال و دولت اور آسائشوں  کو دیکھ کر ان سے مرعوب نہ ہوں  اور اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر سے غافل نہ ہوں  بلکہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور عبادت گزاری میں  مصروف رہیں ۔
{وَ قَالُوْا: اورانہوں  نے کہا۔} یعنی اور مالدار کافروں  نے اپنی عوام سے کہا کہ (حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وجہ سے) اپنے معبودوں  کی عبادت ہر گز ترک نہ کرنا اور ہرگز وَدّ ، سُواع ، یَغُوث، یَعُوق اور نَسْر کو نہ چھوڑنا۔
وَدّ اور سُواع وغیرہ بتوں  کی تاریخی حیثیت:
	وَدّ اور سُواع وغیرہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے ان بتوں  کے نام ہیں  جنہیں  وہ پوجتے تھے۔ اُن لوگوں  کے بُت تو بہت تھے مگر یہ پانچ اُن کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے ا س لئے بطورِ خاص ان پانچوں  کا یہاں  ذکر کیا گیا۔ و َدّمرد کی صورت پر تھا ، سُواع عورت کی صورت پر ، یَغوث شیر کی شکل میں ، یَعوق گھوڑے کی شکل میں اور نَسر گدھ کی شکل میں  تھا۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ بُتحضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم سے منتقل ہو کر عرب میں  پہنچے اور مشرکین کے قبائل میں سے ایک ایک نے ایک ایک بُت کو اپنے لئے خاص کرلیا، جیسا کہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ان بتوں  کو طوفان نے مٹی میں  دفن کر دیا تھا تو وہ اس وقت سے مدفون ہی رہے یہاں  تک کہ شیطان نے عرب کے مشرکین کے لئے انہیں  زمین سے نکال دیا۔( خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۲۳، ۴/۳۱۳-۳۱۴، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۱۲۸۵، ملتقطاً)
	اورصحیح بخاری میں  ہے، حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  کہ جو بُت حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں  پوجے جاتے تھے وہی بعد میں  اہلِ عرب نے اپنے معبود بنا لئے،چنانچہ وَدّ بنی کلب کا بُت تھا جو دَوْمَۃُ الْجَنْدَلْ کے مقام پر رکھا ہو اتھا۔ سُواع بنی ہُذَیل کا بُت تھا، یَغُوث بنی مراد کا بُت تھا ،پھر بنی غُطَیف کا جو سَبا کے پاس جوف میں  تھا۔ یَعُوق ہمدان کا بُت تھا اور نَسْر ذوالکلاع کی آل حِمْیَرْ کا بُت تھا۔ یہ (یعنی وَدّ اور سُواع وغیرہ)