کی ’’اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، بیشک انہوں نے میری نافرمانی کی اور میں نے انہیں جو ایمان لانے اور اِستغفار کرنے کا حکم دیا تھا اِس کو اُنہوں نے نہ مانا اور میری نافرمانی کرنے میں اِن کے عام غریب اور چھوٹے لوگ اُن سرکش رئیسوں اور مال و اولاد والوں کی پیروی کرنے لگے جن کے مال اور اولاد نے اُن کے نقصان ہی کو بڑھایا اور وہ مال کے غرور میں مست ہو کر کفر و سرکشی میں بڑھتے رہے اور ان امیر لوگوں نے بہت بڑے مکرو فریب کئے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا، لوگوں کو ایمان قبول کرنے اور میری دعوت سننے سے روکا،مجھے اور میری پیروی کرنے والوں کو ایذائیں پہنچائیں ۔( تفسیرکبیر،نوح،تحت الآیۃ: ۲۱، ۱۰/۶۵۵، خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۲۱-۲۲، ۴/۳۱۳، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۲۱-۲۲، ص۱۲۸۴، ملتقطاً)
مال اور اولاد کی کثرت راہِ راست پر ہونے کی دلیل نہیں :
اس سے معلوم ہوا کہ مال اور اولاد کی کثرت کسی کے راہِ راست پر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اکثر اوقات مال اور اولاد کی زیادتی دینی گمراہی اور اُخروی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مال اور اولاد کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:
’’وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ‘‘(انفال:۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جان لوکہ تمہارے مال اور تمہاری اولادایک امتحان ہے اوریہ کہ اللّٰہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔
اور کفار کے مال و اولاد کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ‘‘(توبہ:۵۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں ، اللّٰہ یہی چاہتا ہے کہ اِن چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں اِن سے راحت و آرام دور کردے اور کفر کی حالت میں اِن کی روح نکلے۔
اور مال اور اولاد کے حوالے سے مسلمانوں کو حکم ارشاد فرمایا:’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! تمہارے مال اور