Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
374 - 881
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے نیک آدمیوں  کے نام ہیں ،جب وہ وفات پا گئے تو شیطان نے ان کے دلوں  میں  یہ بات ڈالی کہ جن جگہوں  پر وہ اللّٰہ والے بیٹھا کرتے تھے وہاں  ان کے مُجَسَّمے بنا کر رکھ دو اور ان بتوں  کے نام بھی ان نیک لوگوں  کے نام پر ہی رکھ دو۔لوگوں  نے عقیدت کے طور پر ایسا کر دیا لیکن ان کی پوجا نہیں  کرتے تھے،جب وہ لوگ دنیا سے چلے گئے اور علم بھی کم ہو گیا تو ان مجسموں  کی پوجا ہونے لگ گئی۔( بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ انّا ارسلنا، باب ودّاً ولا سواعاً ولا یغوث ویعوق، ۳/۳۶۴، الحدیث: ۴۹۲۰)
	 بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ اہلِ عرب تک وہ بُت نہیں  پہنچے بلکہ ان بتوں  کے نام پہنچے اور عرب والوں  نے ان ناموں  کے بعض بُت تراش لئے اور ان کی پوجا کرنے لگ گئے کیونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے طوفان کے زمانے میں  دنیا تَہَس نَہَس ہو گئی تھی تو یہ بُت کس طرح باقی رہ سکتے ہیں  اور (جب وہ باقی نہیں  رہے تو) اہلِ عرب کی طرف کس طرح منتقل ہوسکتے ہیں  اور یہ کہنا بھی ممکن نہیں  کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان بتوں  کو کشتی میں  رکھ لیا ہو گا کیونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو بُت شِکَن تھے لہٰذا یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بتوں  کی حفاظت کی کوشش کرتے ہوئے انہیں  کشتی میں  رکھ لیا تھا۔( تفسیر کبیر، نوح، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰/۶۵۷، روح البیان، نوح، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰/۱۸۱، ملتقطاً)
 	حضرت محمد بن کعب قرظی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  : وَدّ اور سُواع وغیرہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹوں  کے نام ہیں  ،یہ بہت عبادت گزار تھے، جب ان میں  سے ایک شخص کا انتقال ہوا تو لوگ اس پر شدید غمزدہ ہوئے ، یہ حال دیکھ کر شیطان (انسانی شکل میں ) ان کے پاس آیا اور کہا:تم اپنے ساتھی پر غمگین ہو؟ لوگوں  نے جواب دیا: ہاں ۔اس نے کہا:کیا میں  تمہارے لئے اس جیسی تصویر بنا دوں  جسے تم نماز پڑھتے وقت اپنے سامنے رکھ لینا اور جب تم اسے دیکھو تو وہ ساتھی تمہیں  یاد آجائے (اور تمہارے دل کو سکون نصیب ہو) لوگوں  نے کہا: ہمیں  یہ پسند نہیں  کہ نماز پڑھتے وقت ہمارے سامنے کوئی ایسی چیز ہو۔شیطان نے کہا :تو پھر تم اسے مسجد کے آخری کونے میں  رکھ دو۔لوگوں  نے کہا: ہاں  یہ ٹھیک ہے ۔چنانچہ شیطان نے ان کے لئے تصویر بنا دی اور جب پانچوں  اَشخاص کا انتقال ہو گیا تو شیطان نے سب کی تصویریں  بنا کر مسجد کے کونے میں  رکھ دیں ،پھر ایک وقت وہ آیا کہ لوگوں  نے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر ان تصویروں  کی پوجا شروع کر دی یہاں  تک کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجا جنہوں  نے ان لوگوں