Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
371 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔ تاکہ تم اس کے وسیع راستوں  میں  چلو۔
{وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا: اور اللّٰہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قوم کو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نعمتیں  یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا تاکہ تم اس کے وسیع راستوں  میں  اس طرح (بآسانی) چلو جس طرح آدمی اپنے بستر پر چلتا ہے۔( تفسیر طبری، نوح، تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰، ۱۲/۲۵۲، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰، ص۱۲۸۴، ملتقطاً)
قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ(۲۱)وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ(۲۲)
وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ﳔ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: نوح نے عرض کی اے میرے رب انہوں  نے میری نافرمانی کی اور ایسے کے پیچھے ہولیے جسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا۔اور بہت بڑا داؤ ں  کھیلے ۔اور بولے ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں  کو اور ہرگز نہ چھوڑنا وَدّ اور نہ سُوَاع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نَسْر کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: نوح نے عرض کی، اے میرے رب!بیشک انہوں  نے میری نافرمانی کی اور ایسے کے پیچھے لگ گئے جس کے مال اور اولاد نے اس کے نقصان ہی کو بڑھایا۔اور انہوں  نے بہت بڑا مکرو فریب کیا ۔اورانہوں  نے کہا: اپنے معبودوں  کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ہرگز وَدّ اور سُواع اور یَغُوث اور یَعُوق اور نَسْر (نامی بتوں ) کو نہ چھوڑنا۔
{ قَالَ نُوْحٌ: نوح نے عرض کی۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور طرح طرح کے دلائل سے انہیں  تنبیہ کی ،اب یہاں  سے ان لوگوں  کی مختلف قَولی اور فعلی قباحتیں  بیان کی جا رہی ہیں ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عرض