نُوْرًا ‘‘(یونس:۵)
چاند کونور بنایا۔
( مدارک ، نوح ، تحت الآیۃ : ۱۵-۱۶، ص۱۲۸۴، خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۴/۳۱۳، البحر المحیط، نوح، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۸/۳۳۴، ملتقطاً)
وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ(۱۷)ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا۔پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا اور دوبارہ نکالے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹائے گا اور تمہیں دوبارہ نکالے گا۔
{ وَ اللّٰهُ: اور اللّٰہ نے۔} یہاں سے دوبارہ انسان کی تخلیق سے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل پیش کی ، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے باپ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زمین سے پیدا کیا اور تم انہی کی اولاد ہو، پھر اللّٰہ تعالیٰ تمہیں موت کے بعد اسی میں لوٹائے گا اور تمہیں قیامت کے دن اس سے دوبارہ نکالے گا۔( تفسیر کبیر، نوح، تحت الآیۃ: ۱۷، ۱۰/۶۵۴، سمرقندی، نوح، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۳/۴۰۷-۴۰۸، ملتقطاً)
وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ(۱۹)لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا۔ کہ اس کے وسیع راستوں میں چلو ۔