کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں رکھتے حالانکہ اس نے تمہیں کئی حالتوں سے گزار کربنایا کہ پہلے تم نطفہ کی صورت میں ہوئے ،پھر تمہیں خون کا لوتھڑا بنایا،پھر گوشت کا ٹکڑا بنایا یہاں تک کہ ا س نے تمہاری خِلقت کا مل کی، اور تمہارا اپنی تخلیق میں نظر کرنا ایسی چیز ہے جو کہ اللّٰہ تعالیٰ کی خالقِیَّت، قدرت اور اس کی وحدانیَّت پر ایمان لانے کوو اجب کرتی ہے۔( خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ۴/۳۱۲-۳۱۳، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ص۱۲۸۴، ملتقطاً)
اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ(۱۵)وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نہیں دیکھتے اللّٰہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک ۔اور اُن میں چاند کو روشنی کیا اور سورج کو چراغ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللّٰہ نے ایک دوسرے کے اوپر کیسے سات آسمان بنائے ؟اور ان میں چاند کو روشن کیا اور سورج کو چراغ بنایا۔
{ اَلَمْ تَرَوْا: کیا تم نے دیکھا نہیں ۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو اپنی جانوں میں غور کرنے کی دعوت دینے کے بعد عالَم اور ا س کے عجائبات میں غور کرنے کی دعوت دی، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے اوپر کیسے سات آسمان بنائے اور ان آسمانوں میں چاند کو روشن کیا اور سورج کو چراغ بنایا کہ وہ دنیا کو روشن کرتا ہے اور دنیا والے اس کی روشنی میں ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے گھر والے چراغ کی روشنی میں دیکھتے ہیں ۔ سورج کی روشنی چاند کے نور سے مضبوط تر ہے جیساکہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور