Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
368 - 881
نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ ارشاد نہیں  سنا: وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ ۔( مدارک، ہود، تحت الآیۃ: ۵۲، ص۵۰۲)
	اسی طرح حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بارش کی قلت کی شکایت کی ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے استغفار کرنے کا حکم دیا، دوسرا شخص آیا اور اس نے تنگ دستی کی شکایت کی تو اسے بھی یہی حکم فرمایا، پھر تیسرا شخص آیا اور اُس نے نسل کم ہونے کی شکایت کی تو اس سے بھی یہی فرمایا، پھر چوتھا شخص آیا اور اس نے اپنی زمین کی پیداوار کم ہونے کی شکایت کی تو اس سے بھی یہی فرمایا ۔حضرت ربیع بن صبیح رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جو کہ وہاں  حاضر تھے انہوں  نے عرض کی: آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس چند لوگ آئے اور انہوں  نے طرح طرح کی حاجتیں  پیش کیں ، آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو؟تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کے سامنے یہ آیات پڑھیں: ’’فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰)یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱)وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا‘‘(خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱، ۴/۳۱۲، تفسیر ثعلبی، نوح، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰/۴۴)
مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ(۱۳)وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: تمہیں  کیا ہوا اللّٰہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں  کرتے ۔حالانکہ اس نے تمہیں  طرح طرح بنایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہیں  کیا ہواکہ تم اللّٰہ سے عزت کی امید نہیں  رکھتے۔حالانکہ اس نے تمہیں  کئی حالتوں  سے گزار کربنایا۔
{مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا :  تمہیں  کیا ہواکہ تم اللّٰہ سے عزت کی امید نہیں  رکھتے۔} یہاں  سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے ترغیب دینے کی بنا ء پربھی ان کی قوم نے نصیحت حاصل نہ کی تو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعوت دینے کا ایک اور انداز اختیار کیا،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت