ترجمۂکنزُالعِرفان: بلا رہی ہے اسے جس نے پیٹھ پھیری اورمنہ موڑا۔ اور جوڑ کر رکھا پھر (اسے) محفوظ کرلیا۔
{ تَدْعُوْا: بلا رہی ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جہنم نام لے لے کر کہ اے کافر میرے پاس آ، اے منافق میرے پاس آ ،اسے اپنی طرف بلائے گی جس نے حق قبول کرنے سے پیٹھ پھیری اورایمان لانے سے اِعراض کیا اور اپنامال جوڑ کر رکھا پھر اسے محفوظ کرلیا اور اس پر اس مال کے جو حقوق واجب تھے وہ ا س نے ادا نہ کئے۔ جہنم کا یہ بلانا یا تو زبانِ حال سے ہو گا یا اللّٰہ تعالیٰ آگ میں کلام کرنے کی صلاحیت پیدا کر دے گا اور وہ واضح طور پر کلام کرے گی یا اس سے مراد یہ ہے کہ جہنم پر مامور فرشتے بلائیں گے ۔( خازن ، المعارج ، تحت الآیۃ : ۱۷-۱۸ ، ۴/۳۰۹ ، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ص۱۲۷۹، تفسیر کبیر، المعارج، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۱۰/۶۴۳)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی اطاعت سے اِعراض کرنا،دنیا کی محبت ،مال کی حرص اور نفسانی خواہشات دین کی آفات کا مجموعہ ہیں ۔
اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ(۱۹)اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ(۲۰)وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص ۔جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا۔اور جب بھلائی پہنچے تو روک رکھنے والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والاہوجاتا ہے۔اور جب اسے بھلائی پہنچے تو بہت روک رکھنے والاہوجاتا ہے۔
{ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک انسان بڑا بے صبرا اور حریص پیدا کیا گیا ہے کہ جب اسے تنگ دستی اور بیماری وغیرہ کی