Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
344 - 881
	اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ اس جہنمی سے فرمائے گا جس کو سب سے کم عذاب دیا جا رہا ہوگا کہ اگر تجھے دنیا کا سارا سازو سامان دے دیاجائے تو کیا تو عذاب سے بچنے کے لئے انہیں  فدیے میں  دیدے گا۔وہ عرض کرے گا: ہاں ۔ اللّٰہ تعالیٰ فرمائے گا ’’میں  نے (اس وقت) تم سے اس کے مقابلے میں  بہت تھوڑا مطالبہ کیا تھا جب تو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پشت میں  تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا لیکن تو (نے دنیا میں  آنے کے بعد یہ بات نہ مانی اور) شرک پر ہی ڈٹا رہا۔( بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنّۃ والنار، ۴/۲۶۱، الحدیث: ۶۵۵۷)
{اِنَّہَا لَظٰی: وہ تو بھڑکتی آگ ہے۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ جہنم تو کافروں  پربھڑکتی آگ ہے اور وہ ان (کے جسم) کی کھال کھینچ لے گی یہاں  تک کہ ان کے جسم پر گوشت اور کھال (کا نشان تک) باقی نہ رہے گا۔( جلالین، المعارج، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ص۴۷۳، خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۴/۳۰۹، ملتقطاً)
	یاد رہے کہ ایک بار کھال جل جانے کے بعد سزا ختم نہیں  ہو جائے گی بلکہ اللّٰہ تعالیٰ دوبارہ ان کے جسم پر کھال پیدا کر دے گا تاکہ یہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں ،جیساکہ سورۂ نساء میں  اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًاؕ-كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا‘‘ (النساء:۵۶)ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں  نے ہماری آیتوں  کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں  داخل کریں  گے۔ جب کبھی ان کی کھالیں  خوب جل جائیں  گی توہم ان کی کھالوں  کو دوسری کھالوں  سے بدل دیں  گے کہ عذاب کا مزہ چکھ لیں ۔ بیشک اللّٰہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ(۱۷)وَ جَمَعَ فَاَوْعٰى(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان:  بلارہی ہے اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا ۔اور جوڑ کر سینت رکھا ۔