ترجمۂکنزالایمان: ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی آگ ہے۔کھال اتار لینے والی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہرگز نہیں ،وہ تو بھڑکتی آگ ہے۔کھال کھینچ لینے والی ۔
{كَلَّا: ہرگز نہیں ۔} یہاں کافر کی تمنا کا رد کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ فدیے میں دے دینا ہر گز اس کے کام نہ آئے گا اور نہ اسے کسی طرح عذاب سے بچا سکے گا۔( جلالین، المعارج، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۴۷۳، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۲۷۹، ملتقطاً)
فدیہ دینا بھی کفار کو عذاب سے بچا نہ سکے گا:
کفار کا عذاب سے بچنے کے لئے فدیہ دینے اور اس کے قبول نہ ہونے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ-وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ﳔ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ‘‘ (رعد:۱۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
اور ارشاد فرمایا: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ‘‘(مائدہ:۳۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اگرکافر لوگ جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اور اس کے برابر اتنا ہی اور اس کے ساتھ (ملا کر) قیامت کے دن کے عذاب سے چھٹکارے کیلئے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔