Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
340 - 881
	نوٹ: یاد رہے کہ قیامت کی سختیوں  کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا جیساکہ یہاں  بیان ہوا اور بعض کو دوسرے اعتبار سے ایک ہزار سال کے برابر لگے گا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ‘‘(السجدہ:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اُس دن میں  جس کی مقدار تمہاری گنتی سے ہزار سال ہے۔
	 جبکہ مومن کیلئے وہ دن دنیا میں  ادا کی جانے والی ایک فرض نماز سے بھی کم ہوگا جیساکہ حضرت ابو سعید خدری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں  میری جان ہے!قیامت کا دن مومن پر ہلکا ہو گا حتّٰی کہ ا س فرض نماز سے بھی زیادہ ہلکا ہو گا جو مومن دنیا میں  پڑھا کرتا تھا۔( مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ، ۴/۱۵۱، الحدیث: ۱۱۷۱۷)
فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵)اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶)وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہم اسے نزدیک دیکھ رہے ہیں۔ ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں ۔
{ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  پر اور مذاق اُڑانے کے طور پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرنے پر صبر ِجمیل فرمائیں  اور کفار کی سختی پر تنگدل نہ ہوں  کیونکہ کفارِ مکہ اس عذاب کو اپنے گمان میں  ناممکن سمجھ رہے ہیں  اور یہ خیال کرتے ہیں  کہ وہ واقع ہونے والا ہی نہیں  اور اسی وجہ سے عذاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں  جبکہ ہم جانتے ہیں  کہ یہ ہماری قدرت سے کوئی بعید نہیں  اور نہ ہی ان پر عذاب نازل کرناہمارے لئے کوئی مشکل ہے ۔( روح البیان، المعارج، تحت الآیۃ: ۵-۷، ۱۰/۱۵۹، ابو سعود، المعارج، تحت الآیۃ: ۵-۷، ۵/۷۶۶، ملتقطاً)