Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
341 - 881
یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ(۸) وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن آسمان ہوگا جیسی گلی چاندی۔ اور پہاڑ ایسے ہلکے ہوجائیں  گے جیسے اُون ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیساہوجائے گا۔ اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہوجائیں  گے ۔
{ یَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِ :  جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیسا ہوجائے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ عذاب ممکن ہے اور اس دن میں  کوئی مشکل نہیں  جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیسا ہوگا اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہوجائیں  گے اور ہوا میں  اُڑتے پھریں  گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ایک مانگنے والے نے وہ عذاب مانگا ہے جو ا س دن واقع ہو گا جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیسا ہوجائے گا اور پہاڑ اُون کی طرح ہلکے ہوجائیں  گے اور ہوا میں  اُڑتے پھریں  گے۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی جیساہوگا اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہوجائیں  گے اور ہوا میں  اُڑتے پھریں  گے تو اس دن کی دہشت اور ہَولناکی تصوُّر سے بالا تر ہے۔( ابو سعود، المعارج،تحت الآیۃ:۸-۹،۵/۷۶۷، تفسیر کبیر، المعارج، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۱۰/۶۴۱، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: ۸-۹، ص۱۲۷۸، ملتقطاً)
وَ لَا یَسْــٴَـلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ(۱۰)یُّبَصَّرُوْنَهُمْؕ-یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِىٕذٍۭ بِبَنِیْهِۙ(۱۱)وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ(۱۲)وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُــٴْـوِ یْهِۙ(۱۳)وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا۔ ہوں  گے انہیں  دیکھتے ہوئے مجرم آرزو کرے گا کاش اس دن کے عذاب سے چھٹنے کے بدلے میں  دے دے اپنے بیٹے۔اور اپنی جورو اور اپنا بھائی۔اور اپنا کنبہ جس میں  اس کی جگہ ہے۔اور جتنے زمین میں  ہیں  سب پھر یہ بدلہ دینا اسے بچالے۔