Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
339 - 881
مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ(۳) تَعْرُجُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ(۴)ترجمۂکنزالایمان: وہ ہوگا اللّٰہ کی طرف سے جو بلندیوں  کا مالک ہے۔ملائکہ اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں  وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کی طرف سے ہوگا جو بلندیوں  کا مالک ہے۔فرشتے اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں ، (وہ عذاب) اس دن میں  ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔
{مِنَ اللّٰہِ: اللّٰہ کی طرف سے۔} یعنی کافروں  پروہ عذاب ا س اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے واقع ہو گا جو ساتوں  آسمانوں  کا مالک ہے۔( تفسیر سمرقندی، المعارج، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۴۰۲)
{ تَعْرُجُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ: فرشتے اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں ۔} یعنی فرشتے اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام قرب کے اس مقام کی طرف چڑھتے ہیں  جو آسمان میں  اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات نازل ہونے کی جگہ ہے اور عالَم میں  تَصَرُّف کرنے والے فرشتے وہاں  سے اَحکامات وصول کرتے ہیں ۔یہاں  حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے شرف اور اعلیٰ مقام کی وجہ سے بطورِ خاص ان کاذکر کیا گیا اگرچہ وہ جملہ فرشتوں  میں  داخل ہیں  ۔( خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۳۰۸، جمل، المعارج، تحت الآیۃ: ۴، ۸/۱۰۷، ملتقطاً)
{فِیْ یَوْمٍ: (وہ عذاب) اس دن میں  ہوگا۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اگر فرشتوں  کے علاوہ کوئی انسان ساتویں  زمین کے نیچے سے اس مقام تک چڑھے جہاں  سے اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات نازل ہوتے ہیں  تو وہ پچاس ہزار سال سے پہلے وہاں  تک نہیں  پہنچ سکتا جبکہ فرشتہ ایک لمحے میں  یہ فاصلہ طے کر لیتا ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ کفار پر وہ عذاب قیامت کے دن ہو گاجس کی مقدار دُنْیَوی سالوں  کے حساب سے پچاس ہزار سال ہے۔( خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۳۰۸، جلالین، المعارج، تحت الآیۃ: ۴، ص۴۷۳، ملتقطاً)