دور کرنے پر کوئی بھی قادر نہیں ۔(روح البیان، الحاقۃ،تحت الآیۃ:۴۴-۴۷،۱۰/۱۵۰-۱۵۱، جلالین مع صاوی،الحاقۃ،تحت الآیۃ:۴۴-۴۷،۶/۲۲۳۲، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۴-۴۷، ۴/۳۰۷، ملتقطاً)
یہ آیاتِ مبارکہ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کمالِ صدق اور بارگاہِ خداوندی میں نہایت درجے قابلِ اعتماد ہونے کی دلیل ہیں ۔
{وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ: اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کیلئے ضرور نصیحت ہے۔} یعنی بیشک یہ قرآن ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے فرائض کی بجا آوری کر کے اور اس کی نافرمانیاں چھوڑ کر اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہی لوگ اس کی نصیحتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔(تفسیر طبری، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۲/۲۲۴، صاوی، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۸، ۶/۲۲۳۳، ملتقطاً)
وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ(۴۹) وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ(۵۰) وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ(۵۱) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠(۵۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں کچھ جھٹلانے والے ہیں ۔اور بے شک وہ کافروں پر حسرت ہے۔ اور بے شک وہ یقینی حق ہے۔تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کی پاکی بولو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ جھٹلانے والے ہیں ۔اور بیشک وہ کافروں پر ضرور حسرت ہے۔ اور بیشک وہ ضرور یقینی حق ہے۔تو (اے محبوب!) تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔
{وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ: اور بیشک ضرور ہم جانتے ہیں ۔} یعنی اے لوگو!ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ قرآن کو جھٹلاتے ہیں تو ہم انہیں ان کے جھٹلانے پر سزا دیں گے۔( روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۹، ۱۰/۱۵۱-۱۵۲)
{وَ اِنَّهٗ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ: اور بیشک وہ کافروں پر ضرور حسرت ہے۔} یعنی بیشک وہ قرآن کافروں پر حسرت کا