غور کرتے ہو جو یہ سمجھ سکو کہ یہ کلام سارے جہانوں کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اتارا ہواہے۔( خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۳، ۴/۳۰۶، مدارک، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۳، ص۱۲۷۶، تفسیرکبیر، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۳، ۱۰/۶۳۳-۶۳۴، خزائن العرفان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۲، ص۱۰۵۱-۱۰۵۲، ملتقطاً)
وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِۙ(۴۴) لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِۙ(۴۵) ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ٘ۖ(۴۶) فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِیْنَ(۴۷) وَ اِنَّهٗ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے ۔ضرور ہم ان سے بَقُوَّت بدلہ لیتے۔ پھر ہم ان کی رگِ دل کاٹ دیتے۔پھر تم میں کوئی ان کا بچانے والا نہ ہوتا ۔اور بے شک یہ قرآن ڈر والوں کو نصیحت ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگر وہ ایک بات بھی خود بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے ۔توضرور ہم ان سے قوت کے ساتھ بدلہ لیتے۔پھر ان کی دل کی رگ کاٹ دیتے۔پھر تم میں کوئی ان سے روکنے والا نہ ہوتا۔اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کے لئے ضرور نصیحت ہے۔
{وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ: اور اگر وہ ایک بات بھی خود بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات میں ارشاد فرمایا کہ ساراقرآن اپنی طرف سے بنا لینا تو دور کی بات ہے اگر بالفرض میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک بات بھی خود سے بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے جو ہم نے نہ فرمائی ہوتی یا ہم نے وہ بات کہنے کی انہیں اجازت نہ دی ہوتی تو ضرور ہم ان سے قوت اور قدرت کے ساتھ بدلہ لیتے پھر ان کی دل کی رگ کاٹ دیتے جس کے کاٹتے ہی موت واقع ہوجاتی ہے ،پھر تم میں سے کوئی ہمیں ان سے بدلہ لینے سے روکنے والا نہ ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہاری وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر سکتے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جو ایسا کرے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے سزا دے گا اور اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی سزا