Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
335 - 881
سبب ہوگا کہ جب وہ قیامت کے دن قرآن پر ایمان لانے والوں  کا ثواب اور اس کا انکار کرنے والوں  اور جھٹلانے والوں  کا عذاب دیکھیں  گے تو اپنے ایمان نہ لانے پر افسوس کریں  گے اور حسرت و ندامت میں  گرفتار ہوں  گے۔( خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۵۰، ۴/۳۰۷، جلالین، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۴۷۳، ملتقطاً)
{وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ: اور بیشک وہ ضروریقینی حق ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک (قیامت کے دن) کفار کی ندامت یقینی حق ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ بے شک قرآن کا اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی حق ہے ۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ بیشک قرآن یقینی حق ہے کہ اس میں  شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ۔( تفسیر سمرقندی، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳/۴۰۱، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۵۱، ۴/۳۰۷، ملتقطاً)
{فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ: تو (اے محبوب!) تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے عظمت والے رب عَزَّوَجَلَّ کی ہر طرح کے نقص و عیب سے پاکی بیان کریں  اور اس کاشکر ادا کریں  کہ اُس نے تمہاری طرف اپنے اس جلیل کلام کی وحی فرمائی۔( خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۵۲، ۴/۳۰۷)