Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
332 - 881
مفسرین کے اور بھی قول ہیں ۔( تفسیر کبیر ، الحاقۃ ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۱۰/۶۳۳، روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۱۰/۱۴۸، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹، ۴/۳۰۶، ملتقطاً)
	اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سارے ہی معانی مراد ہوں ۔
اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ(۴۰) وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ(۴۱) وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ(۴۲) تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں  ہیں ۔اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں  کتنا کم یقین رکھتے ہو ۔اور نہ کسی کاہن کی بات کتنا کم دھیان کرتے ہو ۔اس نے اتارا ہے جو سارے جہان کا رب ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یہ قرآن ضرور ایک معزز رسول سے باتیں  ہیں ۔اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں ہے۔تم بہت کم یقین رکھتے ہو۔اور نہ کسی کاہن کی بات ہے ۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔یہ قرآن سارے جہانوں  کے رب کی طرف سے اتارا ہواہے۔
{اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍ: بیشک یہ قرآن ضرور ایک کرم والے رسول سے باتیں  ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے دیکھی جانے والی اور نہ دیکھی جانے والی چیزوں  کی قسم ذکر فرما کر ارشاد فرمایا کہ بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے وہ باتیں  ہیں  جوان کے رب عَزَّوَجَلَّ نے فرمائیں  اور قرآن کسی شاعر کی بات نہیں ہے جیسا کہ کفار کہتے ہیں  ،تم بالکل بے ایمان ہو اور اتنا بھی نہیں  سمجھتے کہ قرآن نہ شعر ہے نہ اس میں  شِعْرِیَّت کی کوئی بات پائی جاتی ہے اور قرآن نہ کسی کاہن کی بات ہے جیسا کہ تم میں  سے بعض کافر اللّٰہ تعالیٰ کی اس کتاب کے بارے میں  کہتے ہیں  ۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو، نہ اس کتاب کی ہدایات کو دیکھتے ہو نہ اس کی تعلیموں  پر غور کرتے ہو کہ اس میں  کیسی روحانی تعلیم ہے اور نہ اس کی فصاحت و بلاغت اور بے مثال اعجاز پر