Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
331 - 881
نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔
	اور جہنمیوں  کی پیپ کے بارے میں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر جہنمیوں  کی پیپ کا ایک ڈول دنیا میں  انڈیل دیا جائے تو وہ (پوری) دنیا والوں  کو بدبودار کر دے۔( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الحاقۃ، ۳/۳۲۷، الحدیث: ۳۹۰۴)
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَۙ(۳۸) وَ مَا لَا تُبْصِرُوْنَۙ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو مجھے قسم ان چیزوں  کی جنہیں  تم دیکھتے ہو ۔اور جنہیں  تم نہیں  دیکھتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو مجھے ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم دیکھتے ہو۔اور ان چیزوں  کی جنہیں  تم نہیں  دیکھتے۔
{فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُوْنَ: تو مجھے ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم دیکھتے ہو۔} قیامت کے واقع ہونے اور سعادت مندوں  اور بد بختوں  کے اَحوال بیان کرنے کے بعد اب یہاں  سے قرآنِ پاک کی عظمت و شان بیان کی جا رہی ہے، چنانچہ اس آ یت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ مشرکین قرآنِ پاک کے بارے میں  جو کہتے ہیں  وہ ہر گز درست نہیں  ، مجھے ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم دیکھتے ہو اور ان چیزوں  کی قسم ہے جنہیں  تم نہیں  دیکھتے۔
	  یہاں  مَا تُبْصِرُوْنَ اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَکی تفسیر میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ۔
(1)…ان سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات کی قسم جنہیں  تم دیکھ سکتے ہواور جنہیں  تم نہیں  دیکھ سکتے۔
(2)… مَا تُبْصِرُوْنَسے دُنیا اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے آخرت مراد ہے۔
(3)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے مراد وہ چیزیں  ہیں  جو زمین کے اوپر موجود ہیں  اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے وہ چیزیں  مراد ہیں  جو زمین کے اندر موجود ہیں ۔
(4)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے اجسام مراد ہیں  اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے روحیں  مراد ہیں ۔
(5)… مَا تُبْصِرُوْنَ سے ظاہری نعمتیں  مراد ہیں  اور مَا لَا تُبْصِرُوْنَ سے باطنی نعمتیں مراد ہیں ۔ ان کی تفسیر میں