Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
330 - 881
تندرست ہو اور کمانے پر قادر ہو تو اسے جانتے بوجھتے بھیک دینا ناجائز ہے اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ دینے والے اُس کے سوال پر جو کہ ا س کے لئے حرام تھا بھیک دے کر اس کی مدد کرتے ہیں  ،اگر لوگ اسے نہ دیں  تو وہ مجبور ہو جائیں  گے اور کمانے کی کوشش کریں  گے۔( فتاوی رضویہ،رسالہ: بدر الانوار فی اٰداب الاٰثار، ۲۱/۴۲۰)
فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌۙ(۳۵) وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ(۳۶) لَّا یَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـــٴُـوْنَ۠(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو آج یہاں  اس کا کوئی دوست نہیں  ۔اور نہ کچھ کھانے کو مگر دوزخیوں  کا پیپ ۔اسے نہ کھائیں  گے مگر خطاکار ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو آج یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ۔اور نہ دوزخیوں  کے پیپ کے سوا کچھ کھانے کو ہے۔ اسے خطاکار لوگ ہی کھائیں  گے۔ 
{فَلَیْسَ لَهُ الْیَوْمَ هٰهُنَا حَمِیْمٌ: تو آج یہاں  اس کا کوئی دوست نہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن پکڑنے اور طوق ڈالے جانے کی جگہ پر کافر کا کوئی دوست نہیں  جو اسے کچھ نفع پہنچائے یا اس کی شفاعت کرے اور نہ (اس کے لئے) دوزخیوں  کے پیپ کے سوا کچھ کھانے کو ہے اور اس پیپ کو کفار ہی کھائیں  گے جو کہ خطاکار ہیں ۔( روح البیان، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۷، ۱۰/۱۴۷-۱۴۸، خازن، الحاقۃ، تحت الآیۃ: ۳۵-۳۷، ۴/۳۰۶، ملتقطاً)
جہنمیوں  کی پیپ کی کیفیت:
	 قیامت کے دن کفار کا کوئی دوست نہ ہونے کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ‘‘(مؤمن:۱۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ظالموں  کا نہ کوئی دوست ہوگا اور