’’وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸)اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا ‘‘(دہر:۸،۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ اللّٰہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم تمہیں خاص اللّٰہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
اور ارشاد فرمایا: ’’فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ(۱۱) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ(۱۲) فَكُّ رَقَبَةٍۙ(۱۳) اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ(۱۴) یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ(۱۵) اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ(۱۶) ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ(۱۷) اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸)‘‘( بلد:۱۱۔۱۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر بغیر سوچے سمجھے کیوں نہ گھاٹی میں کود پڑا۔ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟۔ کسی بندے کی گردن چھڑانا۔ یا بھوک کے دن میں کھانا دینا۔ رشتہ دار یتیم کو۔ یا خاک نشین مسکین کو۔ پھر یہ ان میں سے ہو جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی نصیحتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی تاکیدیں کیں ۔ یہی لوگ دائیں طرفوالے ہیں ۔
اورحضر ت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک اللّٰہ تعالیٰ روٹی کے ایک لقمے اور کھجوروں کے ایک خوشے اوران جیسی مَساکین کے لئے نفع بخش چیزوں کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا (1)گھر کے مالک کو جس نے صدقے کا حکم دیا۔ (2)اس کی زوجہ کو جس نے وہ چیز درست کرکے دی۔ (3)اس خادم کو جس نے مسکین تک وہ صدقہ پہنچایا ۔پھر رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’اس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد ہے جو ہمارے خادموں کو بھی نہیں بھولا۔( معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۴/۸۹، الحدیث: ۵۳۰۹)
خیال رہے کہ فی زمانہ ہر بھکاری اور مانگنے والے کو نہیں دینا چاہئے بلکہ جو واقعی اس حالت کو پہنچ چکا ہو کہ شرعی طور پر ا س کے لئے سوال کرنا جائز ہو جائے اسے مانگنے پر دینا چاہئے۔فتاویٰ رضویہ میں مذکور مسئلے کا خلاصہ ہے کہ جو