Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
33 - 881
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھو ، ان کی فرمانبرداری کرو اور جاہلیّت کے طریقے چھوڑدو اور یہاں  جو ظہار اور اس کے کفارے کے اَحکام بیان ہوئے یہ اللّٰہ تعالیٰ کی حدیں  ہیں ،ان کو توڑنا اور ان سے تجاوُز کرنا جائز نہیں  اور کافروں  کے لیے قیامت کے دن دردناک عذاب ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۲۳۷، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۲۱۷، ملتقطاً)
روزے رکھ کر اور مسکینوں  کو کھاناکھلا کر ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے متعلق 10شرعی مسائل:
	یہاں  آیت میں  کفارے کی بیان کردہ دو صورتوں  سے متعلق10شرعی احکام ملاحظہ ہوں ،
(1)…روزے سے کفارہ ادا کرنے میں  یہ شرط ہے کہ نہ اِس مدت کے اندر ماہِ رمضان ہو، نہ عید الفطر، نہ عید ِاضحی نہ اَیّامِ تشریق۔ ہاں  اگر مسافر ہے تو ماہِ رمضان میں  کفارہ کی نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے، مگر وہ اَیّام جن میں  روزہ رکھنا ممنوع ہے، اُن میں  اسے بھی روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ۔
(2)…روزے اگر پہلی تاریخ سے رکھے تو دوسرا مہینہ ختم ہونے پر کفارہ ادا ہوگیا اگرچہ دونوں  مہینے 29دن کے ہوں  جبکہ اگر پہلی تاریخ سے نہ رکھے ہوں  تو ساٹھ پورے رکھنے ہوں  گے اور اگر پندرہ روزے رکھنے کے بعد چاند ہوا پھراس مہینے کے روزے رکھ لیے اور یہ29 دن کا مہینہ ہو، اس کے بعد پندرہ دن اور رکھ لیے کہ59 دن ہوئے جب بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔
(3)…کفارہ کا روزہ توڑدیا خواہ سفر وغیرہ کسی عذر سے توڑا یا عذر کے بغیر توڑ دیا،یا ظہار کرنے والے نے جس عورت سے ظہار کیا ان دو مہینوں  کے اندر دن یا رات میں  اُس سے جان بوجھ کر یا بھول کر صحبت کر لی تو نئے سرے سے روزے رکھے کیونکہ شرط یہ ہے کہ جماع سے پہلے دومہینے کے پے در پے روزے رکھے اور ان صورتوں  میں  یہ شرط نہ پائی گئی۔
(4)…روزے رکھنے پر بھی اگر قدرت نہ ہو کہ بیمار ہے اور صحت یاب ہونے کی امید نہیں  یا بہت بوڑھا ہے تو ساٹھ مسکینوں  کو دونوں  وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اور اس میں  یہ اختیار ہے کہ اکٹھے ساٹھ مسکینوں  کو کھلادے یا مُتَفَرّق طور پر، مگر شرط یہ ہے کہ اس دوران روزے رکھنے پر قدرت حاصل نہ ہو ورنہ کھلانا صدقہ نفل ہوگا اور کفارہ میں  روزے رکھنے ہوں  گے اور اگر ایک وقت ساٹھ کو کھلایا دوسرے وقت ان کے علاوہ دوسرے ساٹھ مسکینوں  کو کھلایا تو کفارہ ادا نہ ہوا بلکہ ضروری ہے کہ پہلے یا بعد والے مسکینوں  کو پھر ایک وقت کھلائے۔