Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
34 - 881
(5)…شرط یہ ہے کہ جن مسکینوں  کو کھانا کھلایا ہواُن میں  کوئی ایسا نا بالغ نہ ہو جوبالغ ہونے کے قریب ہو ،ہاں  اگر ایک جوان کی پوری خوراک کا اُسے مالک کر دیا تو کافی ہے۔
(6)…یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر مسکین کو صدقۂ فطر کی مقدار یعنی نصف صاع ( تقریبا ًدو کلو ) گندم یا ایک صاع ( تقریبا ًچار کلو) جَویا ان کی قیمت کا مالک کر دیا جائے ،مگر مباح کر دینا کافی نہیں (بلکہ مالک بنانا ضروری ہے) اور یہ اُنہی لوگوں  کو دے سکتے ہیں  جنہیں صدقۂ فطر دے سکتے ہیں  اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صبح کو کھلائے اور شام کے لیے قیمت دیدے یا شام کو کھلائے اور صبح کے کھانے کی قیمت دیدے ،یا دو دن صبح کو یا شام کو کھلائے، یا تیس کو کھلائے اور تیس کو دیدے غرض یہ کہ ساٹھ کی تعداد جس طرح چاہے پوری کرے اس کا اختیار ہے ۔
(7)…کھلانے میں  پیٹ بھر کر کھلانا شرط ہے اگرچہ تھوڑے ہی کھانے میں  سیرہوجائیں اور اگر پہلے ہی سے کوئی سیر تھا تو اُس کا کھانا کافی نہیں  اور بہتر یہ ہے کہ گندم کی روٹی اور سالن کھلائے اوراس سے اچھا کھاناہو تو اور بہتر اور جَوکی روٹی ہو تو سالن ضروری ہے۔
(8)…ایک مسکین کو ساٹھ دن تک دونوں  وقت کھلایا ،یا ہر روز صدقۂ فطر کی مقداراُسے دیدیا جب بھی کفارہ اد ا ہوگیا اور اگر ایک ہی دن میں  ایک مسکین کو سب دیدیا ایک دفعہ میں  یا ساٹھ دفعہ کر کے، یا اُس کو سب مباح کرنے کے طور پر دیا تو صرف اُس ایک دن کا ادا ہوا۔ یوہیں  اگر تیس مَساکین کو ایک ایک صاع گندم دی یا دودو صاع جَو دئیے تو صرف تیس کو دینا قرار پائے گا یعنی تیس مساکین کو پھر دینا پڑے گا، یہ اُس صورت میں  ہے کہ ایک دن میں  دیئے ہوں  اور اگر دودنوں  میں  دئیے ہوں  تو جائز ہے۔
(9)…ایک سو بیس مسکینوں  کو ایک وقت کھانا کھلادیا تو کفارہ ادا نہ ہوا بلکہ ضروری ہے کہ ان میں  سے ساٹھ کو پھر ایک وقت کھلائے خواہ اُسی دن یاکسی دوسرے دن اور اگر وہ نہ ملیں  تو دوسرے ساٹھ مسکینوں  کو دونوں  وقت کھلائے۔
(10)…ظہار میں  یہ ضروری ہے کہ قربت سے پہلے ساٹھ مساکین کو کھلادے اور اگر ابھی پورے ساٹھ مساکین کو کھلا نہیں  چکا ہے اور درمیان میں  وطی کرلی تو اگرچہ یہ حرام ہے مگر جتنوں  کو کھلا چکا ہے وہ باطل نہ ہوا، با قیوں  کو کھلادے،نئے سرے سے پھر ساٹھ کو کھلانا ضروری نہیں ۔( بہار شریعت، حصہ ہشتم، کفارہ کا بیان، ۲/۲۱۳-۲۱۷)