صورتوں میں بھی روزے وغیرہ سے کفارہ ادا نہیں کرسکتا بلکہ غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔(بہار شریعت، حصہ ہشتم، کفارہ کا بیان، ۲/۲۱۳)
نوٹ:ظہار کے کفارے سے متعلق مزید مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت حصہ8سے ’’کفارہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔
فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاۚ-فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًاؕ-ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جسے بردہ نہ ملے تو لگاتار دو مہینے کے روزے قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا یہ اس لیے کہ تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللّٰہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جو شخص (غلام) نہ پائے تو میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا (شوہر پر لازم ہے) پھر جو (روزے کی) طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ( لازم ہے) یہ اس لیے کہ تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللّٰہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ: پھر جو شخص (غلام) نہ پائے۔} اس آیت میں ظہار کے کفارے کی مزید دو صورتیں بیان کی جا رہی ہیں ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ پھر جسے غلام نہ ملے تو اس صورت میں ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا شوہر پر لازم ہے ،پھر جو اتنے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا شوہر پر لازم ہے۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے تا کہ تم اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول